جیب تراشی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - جیب کاٹنا، جیب کاٹنے کا عمل۔ "یہ نوجوان غلط راستوں پر پڑ کر جیب تراشی، گاڑیاں چرانے. کا کام کرتے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، روزنامہ مشرق، کراچی، ٣اگست، ٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'جیب' کے ساتھ فارسی مصدر 'تراشیدن' سے مشتق صیغہ امر 'تراش' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٨٤ء میں "روزنامہ مشرق، کراچی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جیب کاٹنا، جیب کاٹنے کا عمل۔ "یہ نوجوان غلط راستوں پر پڑ کر جیب تراشی، گاڑیاں چرانے. کا کام کرتے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، روزنامہ مشرق، کراچی، ٣اگست، ٣ )

جنس: مؤنث